حجابِ خُلق۔۔۔۔۲

یہ ملکِ خلق و جہان اخلاق کا مقدس ترین والی

حسین ایسا کہ حسنِ یوسف بھی اس کے دربار کا سوالی

کریم ایسا کہ اس کے دریوزہ گر کا کاسہ نہیں ہے خالی

یہ وہ ہے جس نے عرب کے وحشی دلوں میں بنیادِ امن ڈالی

عرب کا بے مثل نوجواں ہے عجم کا کل بانکپن یہی ہے

قبیلہء ہاشمی کا دولہا، علی کا بیٹا حسن یہی ہے


یہ خود بھی معجز نما ہے اس کی ادا میں عکسِ پیمبری ہے

اسی کے ہونٹوں کے نرم جنبش غرورِ اوجِ سخنوری ہے

تری طبیعت کا صبر اس کی نظر کا اعجازِ سرسری ہے

اسی کے رنگِ قبا سے کشتِ خیالِ انساں ہری بھری ہے

یہ وہ انا مست ہے جو فاقہ کشی میں عظمت کا تاج لے گا

یہ وہ جری ہے کہ دشمنوں سے بنامِ صلح خراج لے گا


بتول زادہ، علی کا بیٹا، نبی کا نورِ نظر یہی ہے

ہر اک تمنا کا باب آخر، ہر اک دعا کا اثر یہی ہے

قرارِ قلب ملائکہ ہے، سکونِ روح بشر یہی ہے

شعور وحدت کے بحر مواج کا حقیقی گہر یہی ہے

نجات کا گر جو سیکھنا ہے تو صرف یہ بات جان لینا

خیال خلدِ بریں سے پہلے حسن کو سردار مان لینا

شاعر کا نام :- محسن نقوی

کتاب کا نام :- حق ایلیا

دیگر کلام

یہ بات ہے تو پھر مرے تیور بھی دیکھنا

بہاروں پر ہیں آج آرائشیں گلزارِ جنت کی

آئے ہر سال محرّم ، مرے اشکوں

میرے داتا کے عرس پر آنے والو سنو آ رہی ہے صدائے بلالی

تِرے در سے ہے منگتوں کا گزارا یاشہِ بغداد

ہمیشہ جوش پر نظر کرم ہے میرے خواجہ کا

خوشا دِلے کہ دِہندَش ولائے آلِ رسول

الاماں قہر ہے اے غوث وہ تِیکھا تیرا

عثمانِ غنی مثلِ صبا جن کا ہے کردار

تیرے جد کی ہے بارہویں غوثِ اعظم