شاہِ کونین کی خوشبو سے فضا کیف میں ہے

شاہِ کونین کی خوشبو سے فضا کیف میں ہے

چھو کے نعلینِ کرم غارِ حرا کیف میں ہے


جب سے مانگا ہے شہِ کون و مکاں کا جلوہ

لفظ ہیں رقص کناں حرفِ دعا کیف میں ہے


ایسے دربار میں پھیلایا ہے دامانِ طلب

التجا وجد میں ہے اور صدا کیف میں ہے


کر کے آئی ہے ابھی کوئے معطر کا طواف

کشتِ نوخیز میں وارفتہ صبا کیف میں ہے


شافعِ حشر کی اک چشمِ عنایت کے سبب

فردِ اعمال کی ہر ایک خطا کیف میں ہے


یاد آئی ہے مدینے کی بلاوے کی طرح

طاقِ امید پہ اک لرزاں دیا کیف میں ہے


نعت بھر دیتی ہے اشفاق رگوں میں امرت

جس کسی کو بھی ملا رزقِ ثنا ،کیف میں ہے

شاعر کا نام :- اشفاق احمد غوری

کتاب کا نام :- زرنابِ مدحت

دیگر کلام

بدر کے میدان میں اِک سائبان دے دیجئے

ہمیشہ طوف میں اس کے ہی عرش اعلیٰ رہتا ہے

پھوٹی حرا سے نورِ نبوت کی روشنی

حق اللہ کی بولی بول

چڑھیا چن ذیقعددا چڑھیا

توقّعات سے بڑھ کر تو ہر طلب سے زیادہ

حجابِ نبوت ۔۔۔۔۔۲

آمنہ کے پالے نے دو جہاں کو پالا ہے

جنابِ مصطفیٰ ہوں جس سے نا خوش

تری نسبت ملى الحمد الله