وہ منزل بوسہ گاہ حضرت روح الامیں ہوگی

وہ منزل بوسہ گاہ حضرت روح الامیں ہوگی

جہاں مدح و ثنائے سرور دنیا و دیں ہوگی


جدھر ہم عاصیوں کے روز محشر قافلے ہوں گے

اسی جانب نگاہ رحمتہ اللعالمیں ؐ ہوگی


وہ جس دم آئیں گے روز قیامت بے حجابانہ

وہ عالم بھی حسیں ہوگا وہ دنیا بھی حسیں ہوگی


خدا کے فضل سے ایسا بھی اک دن آنے والا ہے

کہ انؐ کے آستان ناز پر میری جبیں ہوگی


جو انؐ کا نام لے انؐ کو پکارے انؐ کا کہلائے

نصیب ایسے ہی دیوانے کو معراج یقیں ہوگی


گزاری ہے شہؐ دیں کی ثنا میں زندگی میں نے

دم آخر بھی میرے لب پہ نعت شاہؐ دیں ہوگی


خبر کیا تھی عرب کی سرزمیں کے رہنے والوں کو

کہ اک دن صبط انوار یزداں یہ زمیں ہوگی


یہ مہرو ماہ جس کے حسن کے رنگین جلوے ہیں

خدا جانے وہ ذات پاک خود کتنی حسین ہوگی


محبت فیض یاب بارگاہ شاہؐ والا ہے

محبت فیض یاب بارگاہ شاہؐ دیں ہوگی


فنا کے بعد بھی مظہرؒ کا عالم دوسرا ہوگا

یہاں تربت بنی تو روح طیبہ میں مکیں ہوگی

شاعر کا نام :- مظہر الدین مظہر

کتاب کا نام :- میزاب

دیگر کلام

بروزِ حشر غلاموں کا راز فاش نہ ہو

درود اُس کے لیے ہے سلام اُس کے لیے

آقائے دو جہاں مرے سرکار آپ ہیں

میری بات بن گئی ہے تیری بات کرتے کرتے

اسی الف تیرے اسراراں نوں تیرے ای دسیاں جان گئے

کل نبیوں کے سردار تجھ سا کوئی نہیں

پاؤں وہ آنکھ تجھ سے اے پروردگار میں

جو نہ جانے کہ مقامِ بشریت کیا ہے

زندگی کا سفر ہے بڑا پُر خطر

حج کا پائے گا شَرَف میرا بلال اُمّید ہے