خوشا وہ دن حرم پاک کی فضاؤں میں تھا

خوشا وہ دن حرم پاک کی فضاؤں میں تھا

زباں خموش تھی دل محوِ التجاؤ ں میں تھا


درِ کرم پہ صدا دے رہا تھا اشکوں سے

جو ملتزم پہ کھڑے تھے ، میں ان گداؤں میں تھا


غلافِ خانہ کعبہ تھا میرے ہاتھوں میں

خدا سے عر ض و گزارش کی انتہاؤں میں تھا


فضائے مغفرت آثار میں تھا دل سرشار

مرا وجود خدا کے کرم کی چھاؤں میں تھا


حطیم میں مرے سجدوں کی کیفیت تھی عجب

جبیں زمین پہ تھی ذہن کہکشاؤں میں تھا


طواف کرتا تھا پروانہ وار کعبے کا

جہانِ ارض و سما جیسے میرے پاؤں میں تھا


دھڑک رہا ہے مرے سازِ روح پر اب بھی

وہ ایک نغمہ جو " لبیک " کی صداؤں میں تھا


مجھے یقین ہے میں پھر بلایا جاؤں گا

کہ یہ سوال بھی شامل میری دعاؤں میں تھا

کتاب کا نام :- کلیات صبیح رحمانی

دیگر کلام

میں دنیا دے کوبے اندر

ارضِ طیبہ میں ہو تدفین خداوندِ کریم

یہ بلبل ،یہ تتلی، یہ خوشبو بنا کر

جد اللہ دا نام چتاراں

صنّاع ِگُل و لالہ و نقّاشِ چمن راز

تورب ہے مرا میں بندہ ترا سُبْحٰنَ اللہ سُبْحٰنَ اللہ

زباں پر ہے نام اُس حیات آفریں کا

اے خدا! اپنے نبی کی مجھے قربت دے دے

اے خدائے جمال و زیبائی

اے خدائے کریم ! اے ستار!