قلزمِ تقدیس کی گوہر صفیہ سیدہ

قلزمِ تقدیس کی گوہر صفیہ سیدہ

عبدِ مطلب کی قوی دختر صفیہ سیدہ


پایا عَمَّۃُ النبی کا ارفع و اعلیٰ لقب

ابنِ خویلد آپ کے شوہر صفیہ سیدہ


آپ کردار و عمل میں پاکباز و متقی

ہاشمی اوصاف کی مظہر صفیہ سیدہ


آپ کا حسنِ عمل تھا طاعتِ شاہِ ہدا

حبِ سرور آپ کا زیور صفیہ سیدہ


وہ جری خاتون تھیں اور شاعری کا ذوق تھا

مدحِ شاہِ دین کی خوگر صفیہ سیدہ


بہرِ دینِ حق برائے سیدِ کون و مکاں

خوشبوئے اخلاص کی پیکر صفیہ سیدہ


اعلیٰ درجے کی فقیہا عالمہ اور فاضلہ

ہے نسب بھی آپ کا برتر صفیہ سیدہ

شاعر کا نام :- اشفاق احمد غوری

کتاب کا نام :- انگبین ِ ثنا

دیگر کلام

دوشِ نبیؐ کہاں، یہ سناں کی فضا کہاں؟

دور آنکھوں سے مگر دل کے قریں رہتے ہیں

سن لو میری اِلتجا اچھے میاں

علم کے شہر کا دروازہ

بہتری جس پہ کرے فخر وہ بہتر صدیق

جرات، فصیل جبر گرانے کو چاہیے

نظر میں رہتی ہے ہر دَم شکلِ نُورانی

ہم نہ چھوڑیں گے تیرا در داتا

مروّت کا بانی حسن ابنِ حیدر

لختِ جگرِ سرورِ دیں ؐ سیدہء پاک