رکھتا ہے جو بھی دل میں عقیدت حضور کی

رکھتا ہے جو بھی دل میں عقیدت حضور کی

ہوئی ہے اُس پہ خاص عنایت حضور کی


اللہ کا بڑا ہی کرم اُس پہ ہو گیا

جس کو عطا ہوئی ہے محبت حضور کی


معراج پر ہیں دیکھ کے ، حیران جبرئیل

وہ عظمت و سیادت و رفعت حضور کی


دونوں جہاں میں ہو گیا وہ شخص سرخرو

قسمت سے مل گئی جسے قربت حضور کی


کرتا ہوںمیں ثنائے نبی اِس یقین سے

محشر میں بخشوائے گی نسبت حضور کی


جب تک مرے وجود میں آصف یہ دَم رہے

کرتا رہوں میں ہر گھڑی مدحت حضور کی

شاعر کا نام :- محمد آصف قادری

کتاب کا نام :- مہرِحرا

دیگر کلام

مُجھ کو سرکار نے مِدحت میں لگایا ہُوا ہے

عدم سے لائی ہستی کو آرزوئے رسول

نعتیہ ہائیکو

کملی والیا شاہ اسوارا ، ائے عربی سلطانان

کچھ ایسا کردے مرے کردگار آنکھوں میں

یہی نہیں کہ فقط دل لگانا آتا ہے

ہوا جب گرم بازار محمد

آج عیدوں کی عید کا دن ہے

محمد مصطفےٰ ﷺ صَلِ علیٰ تشریف لے آئے

نظر میں ہے درِ خیرالوریٰ بحمداللہ