کیسا چمک رہا ہے یہ پنجتن کا روضہ

کیسا چمک رہا ہے یہ پنجتن کا روضہ

ہاں نور سے بھرا ہے یہ پنجتن کا روضہ


آباد علی کے دم سے جو گاؤں ہے ہمارا

اس گاؤں میں بنا ہے یہ پنجتن کا روضہ


مشہور پانچ پیروں کا نام ہر طرف ہے

ان کی ہی بس دعا ہے یہ پنجتن کا روضہ


شہدا کی برکتوں سے حصہ تمہیں ملے گا

ہر اک سے کہہ رہا ہے یہ پنجتن کا روضہ


اے گاؤں والو تم بھی اپنی چھتیں بنا لو

اعلان کر رہا ہے یہ پنجتن کا روضہ


عطرِ نبی کی اس میں خوشبو بسی ہوئی ہے

تب ہی مہک رہا ہے یہ پنجتن کا روضہ


دل شاد کی یہ محنت رنگ لائی آج کے دن

دل شاد کر رہا ہے یہ پنجتن کا روضہ


حسنی حسینی کی رنگت دیوار و در سے ظاہر

نورانیت بھرا ہے یہ پنجتن کا روضہ


پیرانِ پنجتن کو بغداد سے ہے نسبت

ہاں غوثیت نما ہے یہ پنجتن کا روضہ


ہم کیوں نہ ان کو سمجھیں مولیٰ علی کا پنجہ

مشکل کشا بنا ہے یہ پنجتن کا روضہ


ہے پنج تن کے دم سے محفوظ یہ علاقہ

گویا کہ اک قلعہ ہے یہ پنجتن کا روضہ


نظمی کا دل لگا ہے پیرانِ پنج تن سے

دل سے لگا ہوا ہے یہ پنجتن کا روضہ

کتاب کا نام :- بعد از خدا

دیگر کلام

سَقَانِی الْحُبُّ کَاْسَاتِ الْوِصَالٖ

ہر فرد پوچھتا ہے قیصر جہاں کہاں ہیں ؟

حجرہء خیر الورا، غارِ حرا

بعدِ رَمضان عید ہوتی ہے

مثنویِ عطار- ۱

بو لنے دو

اِسلامی کانفرنس

آج اشکوں سے کوئی نعت لکھوں تو کیسے

چلی پیا کے دیس دولہنیا بھیس بدل کے

خوشبؤں کا نگر نکہتوں کی ڈگر