نقاب شب عروس مہر نے چہرے سے سرکائی

نقاب شب عروس مہر نے چہرے سے سرکائی

شفق پھولی ‘ چمن جاگے ‘ کرن پھوٹی ‘ سحرآئی


ہوا کے نرم جھونکوں سے مہ و انجم کو نیند آئی

نمودِ صبح صادق اک پیام جانفزا لائی


حریم قدس میں محفوظ تھی جو روزِ اوّل سے

وہ نعمت آمنہؑ کی محترم آغوش نے پائی


جناب مصطفٰے ﷺ صلِ علی ٰ تشریف لے آئے

سوادِ طیبہ و بطحا پہ رحمت کی گھٹا چھائی


اجالا ہوگیا ظلمت کدوں میں مہرتاباں سے

طلسم ِ جہل ٹوٹا‘ زندگی نے روشنی پائی


بجھادیں جس کے ڈر سے بت کدوں نے اپنی قندیلیں

وہ بجلی قہر بن کے کشور آذر پہ لہرائی


شعور آدمیت جاگ اٹھا خواب غفلت سے

میسر آ گئی اک قوم نا بینا کو بینائی


عرب کے ریگزاروں میں کھلے توحید کے غنچے

وہ کیا آئے زمانے میں بہار مستقل آئی


رخ پُر نُور پر شمس الضحیٰ کی تاب و تابانی

جبینِ پاک پر بدرالدجیٰ کی جلوہ فرمائی


تکلّم حرفِ قدوسی‘ تبسم رَمز لاہوتی

سراپا حسن و رعنائی‘ تمام زیب و زیبائی


بہت جی چاہتا ہے سجدہ کرلوں پائے اقدس پر

شریعت سے مگر مجبور ہے شوق جبیں سائی

شاعر کا نام :- پروفیسراقبال عظیم

کتاب کا نام :- زبُورِ حرم

دیگر کلام

ذوقِ نظّارہ کو ہر وقت سفر میں رکھیے

ساقی کچھ اپنے بادہ کشوں کی خبر بھی ہے

اسم لکھّوں کہ اسمِ ذات لکھوں

کملی والے دے راہواں توں قربان مَیں

اک چشمِ عنایت کے آثار نظر آئے

محمد مصطفے آئے فضاواں مسکراپیاں

پہنچاں مدینے چھیتی کتے ساہ نکل نہ جاوے

عطا فضل جود و رحیمی کے بادل

آنکھوں کا تارا نامِ محمد

ہمراہ میں اک نور کے دھارے کے چلا ہوں