جوبنوں پر ہے بہارِ چمن آرائی دوست

جوبنوں پر ہے بہارِ چمن آرائی دوست

خُلد کا نام نہ لے بُلبلِ شیدائی دوست


تھک کے بیٹھے تو درِ دِل پہ تَمَنَّائی دوست

کون سے گھر کا اُجالا نہیں زیبائی دوست


عرصۂ حشر کجا موقفِ محمود کجا

ساز ہنگاموں سے رکھتی نہیں یکتائی دوست


مہر کس منھ سے جلو داریِ جاناں کرتا

سایہ کے نام سے بیزار ہے یکتائی دوست


مرنے والوں کو یہاں ملتی ہے عمر جاوید

زندہ چھوڑے گی کسی کو نہ مسیحائی دوست


ان کو یکتا کیا اور خلق بنائی یعنی

اَنجمن کر کے تماشا کریں تنہائی دوست


کعبہ و عرش میں کہرام ہے ناکامی کا

آہ کِس بزم میں ہے جلوئہ یکتائی دوست


حسن بے پردہ کے پردے نے مٹا رکھا ہے

ڈُھونڈنے جائیں کہاں جلوئہ ہرجائی دوست


شوق روکے نہ رُکے پاؤں اُٹھائے نہ اُٹھے

کیسی مشکِل میں ہیں اللہ تَمَنَّائی دوست


شرم سے جھکتی ہے محراب کہ ساجد ہیں حضور

سجدہ کرواتی ہے کعبہ سے جبیں سائی دوست


تاج والوں کا یہاں خاک پہ ماتھا دیکھا

سارے داراؤں کی دارا ہوئی دارائی دوست


طور پر کوئی، کوئی چرخ پہ یہ عرش سے پار

سارے بالاؤں پہ بالا رہی بالائی دوست


اَنْتَ فِیْہِمْ نے عَدُوْ کو بھی لیا دامن میں

عیشِ جاوید مبارک تجھے شیدائی دوست


رَنجِ اَعدا کا رضاؔ چارہ ہی کیا ہے جب انھیں

آپ گستاخ رکھے حلم و شکیبائی دوست

شاعر کا نام :- احمد رضا خان بریلوی

کتاب کا نام :- حدائقِ بخشش

دیگر کلام

تِرا شکر مولا دیا مَدنی ماحول

سَقَانِی الْحُبُّ کَاْسَاتِ الْوِصَالٖ

نوری آستانے میں ہر قدم پہ برکت ہے

دل کی کَلیاں کِھلیں قافِلے میں چلو

امرت امرت گیت لئے جب برکھا موتی رولے

جوبنوں پر ہے بہارِ چمن آرائی دوست

ہر دن ہے دعا ہر رات دعا

نزدیک آرہا ہے رَمضان کا مہینا

مارکس کے فلسفہء جہد شکم سے ہم کو

کیسا چمک رہا ہے یہ پنجتن کا روضہ